نئی دہلی،20؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )نیل گائے ، بندر اور جنگلی بھالو کو مارنے کے معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت 15؍جولائی تک ٹل گئی ہے۔سپریم کورٹ نے نیل گائے کو مارنے پر فی الحال روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔اس معاملے پر گوری مولیکھی اور کچھ دوسری غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے درخواست دائر کی گئی تھی۔در خواست میں کہا گیا ہے کہ بہار، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں نیل گائے ، بندر اور جنگلی بھالو کو پر تشدد جانورقراردے کر لوگوں کو نقصان پہنچانے کے نام پر مارا جا رہا ہے۔اس پر روک لگانی چاہیے ۔درخواست میں مرکز کے 2015کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی بتایا گیا ہے اور روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے تحت ان جانوروں کو مارا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کو مرکزی حکومت کو میمورنڈم دینے کے لیے کہا ہے۔کورٹ نے مرکز کو دو ہفتے کے اندر اس پر فیصلہ لینے کی ہدایت دی ہے۔درخواست گزار نے فی الحال سپریم کورٹ سے جانوروں کے مارنے پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ مرکز نے یہ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے قانون پر عمل نہیں کیا ہے لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ جو بھی حقائق درخواست میں بیان کئے گئے ہیں ، انہیں میمورنڈم کے طور پر مرکز کو دیا جائے۔وہیں مویشی ویلفیئر بورڈ نے بھی مرکز کے نوٹیفکیشن پر اعتراض کیااور کہا کہ جانوروں کو مارنے کا یہ نوٹیفکیشن منمانا ہے اور بغیر کسی اسٹڈی کا ہے۔